29 اگست 2026 - 13:30
ٹرمپ کی جنگ جوئی؛ امریکی بالادستی کا 'بلیک ہول' - 1

اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکی-صہیونی جنگ، 15 ماہ بعد از آن کہ ڈونلڈ ٹرمپ، صدرِ امریکہ، نے اسے "ایک مختصر سفر" (یا ایک مختصر مہم) قرار دیا تھا، اب ایک جان لیوا دلدل بن چکی ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ صہیونی وزیرِ اعظم، نیتن یاہو نے بعد میں منکشف ہونے والی معلومات کے مطابق، ٹرمپ کو وعدہ دیا تھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ 5 دنوں میں ایران میں حکمران نظآم کو تباہ کر دے گا! چنانچہ دنیا اب پہلے سے زیادہ سمجھ گئی ہے کہ امریکہ اب دنیا میں کوئی بھی ملک سپر پاور نہیں رہا۔ امریکی بالادستی کو آج عسکری، ثقافتی، معاشی اور دیگر شعبوں میں چیلنجوں کا سامنا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران نے غیرمتوازن جنگ کے ذریعے امریکہ کی کھربوں ڈالر کی جنگی مشین کو مفلوج کرکے رکھا ہے، لبرل ڈیموکریسی کا کلچر ـ جس نے اپنی مجرمانہ ذات برسوں تک منافقت کے لبادے میں چھپا رکھی تھی، ـ بے نقاب ہو گیا ہے، اور اسی کلچر نے اس کی اپنی معیشت کو بھی بحران کی دہلیز تک پہنچا دیا ہے۔

اس تبدیلی کے نتائج نے علاقائی اور بین‌الاقوامی ڈھانچوں کے اجزاء کو اس قدر دگرگوں کر دیا کہ موجودہ صورت حال 21ویں صدی کی تیسری دہائی میں ایک نئے عالمی نظام (یا عالمی ترتیب World Order) کی نوید دے رہی ہے:

طاقت کے توازن میں تبدیلی:

امریکہ اور صہیونی ریاست نے ـ جون 2026 میں ـ مغربی ایشیا میں 12 روزہ جنگ شروع ہونے سے پہلے، ہتھیاروں کی برتری کے سہارے، خوف و ہراس کی پالیسی کو فروغ دے کر استعمار اور استحصال کے ذریعے اس خطے کی قوموں کی دولت لوٹنے کی [کامیاب] کوشش کی تھی۔

لیکن ایران کے خلاف جنگ نے امریکی عسکری قوت کے افسانوی طلسم کو توڑ دیا اور دنیا نے دیکھا کہ ایک اللہ پر ایمان رکھنے والی خودمختار اور خودکفیل قوم جدید ترین ہتھیاروں کے سامنے ڈٹ جاتی ہے اور ڈٹ سکتی ہے۔ مغربی ایشیا کے ماحولیاتی حالات اس طرح رقم ہو رہے ہیں کہ ایران آہستہ آہستہ خطے کی برتر طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے۔

آبنائے ہرمز، طاقت کا اوزار

آبنائے ہرمز پر ایرانی انتظام ـ جس کے حوالے سے پہلے شدید شبہات تھے کہ ایران اسے کنٹرول نہیں کر پائے گا ـ اب ثابت اور مستحکم ہو چکا ہے۔ یہ آبنائے اب ایران کے ہاتھ میں دنیا کا سب سے مضبوط اور یقینی تسدیدی اوزار ہے، جس نے ایک گولی چلائے بغیر امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر تکلیف دہ دباؤ ڈالنے کے اسباب فراہم کئے ہیں۔

آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول اب اسلامی جمہوریہ ایران کے لئے صرف ایک "سودے بازی کا پتہ" نہیں، بلکہ ایک "طاقت کا ایک مؤثر اوزار" ہے۔ یہ ایسا معاملہ ہے جو مستقبل قریب میں قومی، علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔

رہبرِ انقلاب اسلامی، آیت‌اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای (حفظہ اللہ)،  نے پہلے ہی ایک پیغام میں تاکید فرمائی تھی کہ "خدائے متعال کی طرف سے ہمارے خطے کی مسلمان قوموں، ـ خاص طور پر ایرانِ اسلامی کے شریف عوام کے لئے بے‌مثال نعمتوں میں سے ایک، خلیج فارس کی مَوہِبَت ہے؛ ایسی نعمت جو محض ایک آبی خطے سے کہیں آگے ہے، جس نے ہماری شناخت اور تہذیب کا حصہ تشکیل دیا ہے، اور اقوام کے مابین رابطے کے نقطے کے علاوہ، آبنائے ہرمز اور اس کے بعد بحیرۂ عمان میں عالمی معیشت کا منفرد اور بنیادی راستہ بنا دیا دیا ہے۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: ڈاکٹر حسن عابدینی، نائب سربراہ برائے سیاسی امور، آئی آر آئی بی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha